19

برطانیہ میں عائد ہیلتھ ٹیکس غیرملکی نرسوں کے لیے تکلیف دہ

لندن: برطانیہ میں عائد ہیلتھ ٹیکس نے غیر ملکی نرسوں کو پریشان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق کینیا کی نرس جو گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور نرس کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی وجہ سے کینیا میں مقیم والدین اور اپنے بچوں کی کفالت میں مشکلات درپیش ہیں۔
کین کا کہنا تھا کہ ہیلتھ سرچارج کی وجہ سے وہ پیسے بچانے میں ناکام ہوجاتی ہیں، کین کو اپنے بچوں کی برطانیہ منتقلی کے لیے 2185 پاؤنڈ درکار تھے جو اب ہیلتھ ٹیکس کی وجہ سے 400 پاؤنڈ تک جاپہنچے ہیں۔
واضح رہے کہ غیر ملکی ورکرز کو برطانیہ میں مقیم ہونے کے تحت سالانہ فیس کی مد میں 200 سے 268 پاؤنڈ جمع کرانے ہوتے تھے۔
کین کے مطابق انہیں یہ کہنا بہت مشکل ہورہا ہے کہ جب گھر والے ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ برطانیہ آکر رہ سکتے ہیں، ہر ماں باپ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔
ہر آٹھ میں سے ایک نیشنل ہیلتھ سروس اسٹاف برطانوی شہری نہیں ہے، تقریباً 201 غیر ملکی نیشنل ہیلتھ سروس میں برطانیہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کین کے مطابق بعض اوقات کام کا پریشر اتنا ہوتا ہے کہ گھر سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو اس کی کال ریسیو نہیں کرسکتے ہیں۔
کین کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ چھوڑنے پر غور کررہی ہیں، ان کا کہنا ہے وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ ڈبل ٹیکس ادا نہیں کرسکتی ہیں، اس لئے کینیڈا یا آسٹریلیا کے لیے درخواستیں جمع کروائیں گی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  بلوچستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا

خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں
The post برطانیہ میں عائد ہیلتھ ٹیکس غیرملکی نرسوں کے لیے تکلیف دہ appeared first on ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar.