42

’بحران میں بولنے والی کوئی عاصمہ نہیں ہو گی‘

گلبرگ میں عاصمہ جہانگیر سے آخری ملاقات کے لیے ہر مذہب اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین ان کے گھر کے اندر اور باہر موجود تھے۔ ہر چہرہ اداس اور آنکھیں نم تھیں۔زرد رنگ کے دوپٹوں میں ملبوس ویمن ایکشن فورم سے منسلک خواتین نے سب سے پہلے قذافی سٹیڈیم کا رخ کیا کیونکہ عاصمہ کے اہل خانہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ نماز جنازہ میں خواتین کو بھی شرکت کا موقع دیا جائے گا۔عاصمہ جہانگیر کے بارے میں مزید پڑھیےعاصمہ جہانگیر: ‘ہم ان کی زندگی کو سیلیبریٹ کریں گے’’آج ایک بے خوف کارکن کو کھو دیا‘زندہ رہی اور ڈٹ کے زندہ رہیگھر کے باہر نکلیں تو قذافی سٹیڈیم تک عاصمہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے بینرز آویزاں کر رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’انسانی حقوق کی شمع بردار‘۔سب دوست احباب ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے۔وہاں موجود ایک صاحب نے فیض احمد فیض کا ذکر کیا اور کہا ’آج فیض کا سب سے اداس برتھ ڈے ہے‘۔ویمن ایکشن فورم کے پلیٹ فارم سے عاصمہ کے ساتھ دوستی اور جدوجہد کا آغاز کرنے والی خاور ممتاز نے بتایا کہ ان کی سب سے خاص بات کسی کی بھی مدد کے لیے ہر دم موجودگی تھی۔

’وہ شیشے کی طرح عیاں تھی، اس کا ظاہر باطن ایک تھا۔ یہ نہیں سوچتی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے، جو دل میں ہوتا کہہ دیتی تھی‘۔انسانی حقوق کے ادارے ویمن رائٹس واچ سے منسلک قانون دان سروپ اعجاز نے کہا کہ ’عاصمہ کا نقصان ناقابل تلافی ہے۔ ایسے لوگ معاشروں کی تاریخ میں کبھی کبھی آتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ان کا خلا ہمیں آج بھی محسوس ہو رہا ہے اور شاید آنے والے مہینوں اور برسوں میں اور زیادہ محسوس ہو گا۔ جب کوئی بحران ہو گا تو کوئی عاصمہ بولنے والی نہیں ہو گی۔‘اسی دوران جنازہ گاہ میں خواتین کے لیے دائیں جانب الگ قناطیں لگانے کا آغاز ہوا لیکن سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ ’ایسا مت کریں، عاصمہ صنفی مساوات کی علمبردار تھیں‘۔ ان کی اس درخواست کو قبول کیا گیا اور وہاں سینکڑوں کی تعداد میں موجود مرد و خواتین نے مولانا حیدر قاروق مودودی کی امامت میں نماز جنازہ ادا کیا۔شہر خموشاں کی ایمبولینس میں عاصمہ کو منتقل کرنے سے قبل ایک بار پھر ان کی ساتھی کارکنان کو ان کے آخری دیدار کا موقع دیا گیا۔ایمبولینس کے چلنے سے قبل اس کے آگے وکلا اور سماجی کارکنان نے الوداعی نعروں کے ساتھ ایک دوسرے سے عہد لیا کہ وہ ان کا مشن جاری رکھیں گے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  سانحہ آرمی پبلک اسکول کو3 سال بیت گئے، زخم آج بھی تازہ

عاصمہ جہانگیر کے بارے میں مزید پڑھیےعاصمہ جہانگیر کے جنازے میں خواتین کی بڑی تعداد شریکانسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیںوہ سب ایمبولینس کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے یہ نعرہ لگا رہے تھے ’زندہ ہے عاصمہ زندہ ہے، میری عاصمہ زندہ ہے، تیری عاصمہ زندہ، ہم سب کی عاصمہ زندہ ہے‘۔عاصمہ کی بیدیاں میں آخری آرام گاہ کی جانب روانگی کے بعد بھی جنازہ گاہ میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں ان کی دیرینہ ساتھی نگہت عبداللہ بھی شامل تھیں جو روتے ہوئے کہنے لگیں کہ ’آج میں دوسری مرتبہ یتیم ہوئی ہوں، وہ میری گرو تھی اور اس نے ہمارا گرو بن کر دکھایا، جو کہا اس پر ڈٹی رہیں‘۔قریب آکر بیٹھنے والی ایک خاتون نے ان کی بات سن کر کہا ’میڈم کے گھر اور دفتر کا دروازہ تو ہر ایک کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ میرا تعلق اوکاڑہ سے ہے اور فوج نے جب میرے بھائی اور والد کو اٹھا لیا تھا تو عاصمہ ہی نے آکر ہماری مدد کی‘۔واپسی کے سفر کے دوران میں سوچ رہی تھی کہ آخر ایسا کیا تھا کہ انسانی حقوق کی اتنی بڑی کارکن کے جانے پر اعلیٰ حکومتی شخصیات اور چند بڑی سیاسی جماعتیں غیر موجود تھیں؟