20

بارانی ذرعی تحقیقاتی ادارہ میں انگورکی 50 اقسام کی کاشت

لاہور: محکمہ ذراعت پنجاب نے پوٹھوہارکے علاقے میں انگورکی پچاس اقسام کی کامیاب کاشت کا تجربہ کیا ہے، اس اقدام سے پاکستان بہت جلدناصرف انگورکی پیداوارمیں خودکفیل ہوجائے گا بلکہ اعلیٰ کوالٹی کا انگوربیرون ملک ایکسپورٹ بھی کیا جاسکے گا۔

بارانی ذرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال میں جہاں دیگرفصلوں، پھلوں اورسبزیوں پرتحقیق کی جارہی ہے وہیں انگورکی مختلف اقسام پربھی تجربات جاری ہیں ،  خطہ پوٹھوہار میں اعلیٰ کوالٹی کا انگور پیدا ہو رہا ہے جبکہ بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، گوجرانوالہ، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد ڈویژن میں بھی کافی حد تک انگور کی کاشت فروغ پارہی ہے، اس تحقیقاتی ادارے میں انگورکی 50 اقسام کی  کاشت کی گئی ہے۔

ہارٹی کلچرشعبے کے انچارج محمدعقیل فیروز نے بتایا کہ انہوں نے دنیا بھرسے انگورکی اعلیٰ اورمعیاری اقسام جمع کرکے ان میں سے 50 اقسام کو یہاں کاشت کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ابھی تک انگورکی سات، آٹھ اقسام کاشت ہورہی ہیں تاہم وہ اس تحقیقاتی ادارے میں اس چیزکوممکن بنانے میں لگے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ اقسام کو یہاں کاشت کیاجاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں چولستان کی سرزمین کو انگورکی کاشت کے لئے موزوں ترین تصورکیاجاتا ہے، انگورکی پیداوارکا انحصاراس کی اقسام پرمنحصرہے تاہم عموماً ایک ایکڑ سے 600 من پیداوارحاصل کی جاسکتی ہے، انگورکے باغات کی اوسط عمر 30 سے 35 سال تک ہوتی ہے، عام طورپردوسے تین سال میں پیداوارشروع ہوجاتی ہے، ایک بیل پرعموماً 20 کلوتک پھل آتا ہے، پاکستان میں اب بغیر بیج کے بعض ایسی اقسام بھی کاشت ہو رہی ہیں جن سے فی ایکڑ 10 سے 20 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن حاصل ہو سکتی ہے، ایک ایکڑ پر انگور کاشت کرنے پر صرف ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے خرچ آتا ہے،  درجہ حرارت انگور کے معیار اور مٹھاس پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے اگر  درجہ حرارت زیادہ ہو گا تو انگور میں مٹھاس زیادہ آئے گی، پاکستان میں  انگور کی مختلف اقسام ، پرلٹ، عناب شاہی، وائٹ سیڈ لیس، ریجینیاء، کنگزروبی، فلیم سیڈ لیس اور تھامسن سیڈ لیس  کے پودےآسانی سے مل جاتے ہیں، کنگ روبی کی شیلف لائف زیادہ ہے اور اپنے ذائقے، سائز کی وجہ سے مارکیٹ میں اسکو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  مودی سرکار، پاکستان کی فتح کا جشن منانے والے 15 بھارتی گرفتار

انگوروں کے باغات کی نگہبانی اوردیکھ بھال کے لئے کئی ملازم ہیں ان میں سے ایک عبدالجباربھی ہے، جو دن رات انگوروں کو اس کے دشمنوں سے بچانے میں مصروف رہتا ہے، عبدالجبارنے بتایا کہ جب بیلوں پرپھل لگنا شروع ہوجاتا ہے توپھروہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بیل کی شاخیں اورپتے  زمین سے نہ لگیں، کیوں اس طرح وہ خراب ہوسکتے ہیں۔ انگوروں کے گچھوں کا بڑی احتیاط اورباریک بینی سے جائزہ لیاجاتا ہے  اگرانگورکا کوئی دانہ خراب نظرآئے تواسے گچھے سے الگ کردیا جاتا ہے تاکہ باقی گچھا خراب نہ ہوسکے، عبدالجبارنے بتایا کہ جب انگورتیارہوجاتے ہیں توسب سے زیادہ پرندے اورسانپ ان پرحملہ آورہوتے ہیں، انگوروں کی فصل کوان سے بچانے کے لئے اس کے اوپرنیٹ لگادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پرندے انگوروں تک نہیں پہنچ پاتے اورفصل نقصان سے محفوظ رہتی ہے۔

The post بارانی ذرعی تحقیقاتی ادارہ میں انگورکی 50 اقسام کی کاشت appeared first on ایکسپریس اردو.