57

بادشاہ جوروزانہ ’’زہر‘‘ کھاتا تھا

1458ء سے 1511ءتک ریاست گجرات پر محمد بیگدا (محمد شاہ اول) حکومت کرتا رہا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ریاست پر طویل ترین حکمرانی کرنے والے بادشاہ تھا جس نے ترپین سال تک حکومت کی۔
اب اس کے متعلق مورخین نے ایسا انکشاف کیا ہے کہ سن کر ہر کوئی چونک اٹھے گا۔بھارتی اخبار، ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق مورخین کا کہنا ہے کہ محمد شاہ اول بلا کا بسیار خور تھا اور روزانہ 35کلوگرام سے زائد وزن کا کھانا کھاجا تا ۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ کہ انتہائی خطرناک زہر بھی بادشاہ کے روزانہ کے کھانے کا حصہ تھا۔یہی نہیں وہ زہر کی ایک مخصوص مقدار پیتا بھی تھا۔
مورخین نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ایک بار کسی دشمن نے محمد شاہ کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بعد شاہ نے کچھ مقدار میں روزانہ زہر پینا شروع کر دیا تاکہ اس کا جسم زہر کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر سکے اور آئندہ کوئی اسے زہر دے کر قتل نہ کر سکے۔ آہستہ آہستہ وہ زہر کی مقدار بڑھاتا چلا گیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ جو کپڑے پہنتا تھا اور جوکھانا بچاتا تھا، وہ بھی زہریلے ہو جاتے تھے۔ خدام ان کپڑوں اور بچے ہوئے کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے۔وہ ان اشیا کو کسی چیز سے اٹھا کر باہر لے جاتے اور آگ لگا کر جلا دیتے تھے۔ یہ عین ممکن ہے کہ زہر نے محمد شاہ کے بدن میں مختلف امراض پیدا کر دئیے کیونکہ وہ صرف چھیاسٹھ سال کی عمر میں چل بسا۔
٭٭
یک دن اکبر بادشاہ اپنے نورتنوں کے درمیان بیٹھا تھا۔ ‘‘ کدو ‘‘ موضوع سخن تھا۔ اکبر بادشاہ کہنے لگا ’’سنا ہے کدو بڑی اچھی سبزی ہے۔‘‘
قریب ہی بیٹھے بیربل نے تائید کرتے ہوئے کہا’’جہاں پناہ کدو تو سبزیوں کی شہنشاہ سبزی ہے۔ کدو بیشمار دوائیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ آنکھیں خراب ہوں تو کدو کا پانی آنکھوں میں ڈالیں۔ اگر پاؤں جلتے ہوں تو تلوؤں پر کاٹ کر رگڑیں۔ تلخی یا گرمی فوراً ٹھیک ہوجائے گی۔ دال یا گوشت میں ڈالیں، حلوہ یا رائتہ تیار کریں غرض ہر حالت میں لطف دے گا۔‘‘
یہ سن کر اکبر کہنے لگا ’’لیکن مجھے کدو پسند نہیں۔‘‘
بیربل نے فوراً پینترا بدلا اور بولا ’’ بجا ارشاد فرمایا عالم پناہ !کدو بھی کوئی کھانے کی چیز ہے، انتہائی بدذائقہ سبزی ہے۔ اسے کون کھاتا ہے؟‘‘
یہ سن کر اکبر نے کہا ‘‘ تم عجیب آدمی ہو۔ ابھی کدو کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے اور جب میں نے کدو سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو اس میں کیڑے نکالنے شروع کردیے۔‘‘
بیربل نے برجستہ جواب دیا ’’جہاں پناہ میں آپ کا نمک خوار ہوں، کدو کا نہیں۔‘‘
٭٭
ایک دن احمد شاہ قاچار،والی ایران نے اپنے وزیر حاجی مرزا آقاسی سے پوچھا کہ بتاؤ سامنے والے بڑے حوض میں کتنے پیالے پانی ہے؟ وزیر نے جواب دیا کہ یہ سوال آپ کسی طالب علم سے پوچھیے، جو اس علم کے متعلق کچھ اندازہ رکھتا ہو۔
چنانچہ ایک طالب علم کو بلایا گیا۔ احمد شاہ نے اس سے بھی وہی سوال کیا۔ لڑکے نے دریافت کیا ’’جناب وہ پیالہ کتنا بڑا ہوگا؟ اگر پیالہ نصف حوض کے برابر ہو گا تو حوض میں دو پیالے پانی ہوگا۔ اگر پیالہ حوض کا تہائی ہوگا تو تین پیالے۔ اگر چوتھائی ہو گا تو ہوگا تو چار پیالے۔ علی ہذا القیاس اگر پیالہ ہزارواں حصہ ہوگا تو ہزار پیالے۔‘‘
احمد شاہ اس برجستہ حاضر جوابی سے بہت خوش ہوا۔ اس نے طالبعلم کو معقول انعام و اکرام سے نوازا۔
 
The post بادشاہ جوروزانہ ’’زہر‘‘ کھاتا تھا appeared first on ایکسپریس اردو.