39

ایسڈ گردی

ناکامی ، کسی بھی قسم کی ہو ، انسان کے اندر منفی جذبات بھر دیتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں سب سے پہلے وہ ماحول کو, پھراپنے سے جڑے رشتوں کو اور پھرتقدیر کو موردَ الزام ٹھہرانا شروع ہوجا تا ہے ۔ خون میں منفیت کی مقدار کم ہو تو انسان صرف خود سے ہی انتقا م تک اکتفا کرتا ہے ، جیسے کہ اپنی زندگی برباد کر نا اور اگر ناکامی کی شدت زیادہ ہو تو زندگی کو ختم ہی کر لینا ۔۔۔ لیکن اگر یہ منفیت، آخری حدوں کو چھو جائے تو وہ دوسروں سے بھی انتقام لیتا ہے ، جس کی سب سے کمزور حالت ، بددعا دینا اور سب سے طاقتور ، جان سے مار دینا اور درمیانی حالت جو سب سے زیادہ اذیت ناک ہے وہ یہ کہ دوسرے کی زندگی ایسی کر دینا کہ وہ نہ زندہ میں رہے نہ مردوں میں ۔۔ اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی سے اس کی شناخت ہی چھین لی جائے ، اس کا چہرہ نوچ لیا جائے ۔
تیزاب گردی ایسی ہی سوچ اور رویہ کا نتیجہ ہو تی ہے ۔نفرت اور غصے سے جب کوئی کسی کے منہ پر تیزاب پھینکتا ہے تو یہ اسی حالت کا نتیجہ ہو تا ہے جس میں نفرت کرنے والا اپنے دشمن کو آسان موت بھی نہیں دینا چاہتا ، وہ اسے اپنے سامنے سسکتے ہو ئے، تڑپتے ہو ئے ،پچھتاوئے میں جھلستا ہوا دیکھنا چاہتا ہے ۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ جب کوئی کسی سے کسی کا چہرہ چھیننے کی کوشش کرتا ہے تو یہ انتقام کی بدترین سٹیج ہو تی ہے۔

پاکستان میں قصاص کا اسلامی قانون ، پہلو بہ پہلو چلتا ہے ، تو کیا اسے استعمال نہیں کرنا چاہیئے ۔۔ چہرے اور آنکھ کے بدلے ، چہرہ اور آنکھ نہیں لینی چاہیئے ؟بچوں کے ساتھ زیادتی اور عورتوں کے منہ پر تیزاب پھینکنے والوں کو سخت سے سخت اور سرعام سزائیں نہ دی گئیں تو صرف خبریں دینے سے لوگوں کے اندر جرم سے نفرت کی بجائے جرم کرنے کا خیال آنے لگے گا ۔۔ کوئی بھی لڑکی کسی لڑکے کو ٹھکرائے گی ، تو ،پاکستان میں کپاس،ربڑ اور جیولری کی صنعتیں ہو نے کی وجہ سے باآسانی تیزاب سے اسے سزا دینا ، بہت آسان لگے گا ۔ بیوی بات نہ مانے تو اس کے منہ پر تیزاب پھینک دو ۔۔ کسی کا کسی سے افئییر ہو جائے تو اس کے ،منہ پر تیزاب پھینک دو ۔۔

تیزاب سے چہرہ اور روح دونوں زخمی ہو جاتے ہیں ۔۔عصمت دریدہ جسم اور تیزاب سے جھلسا بدن ۔۔ یہ شائد کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں واپس نہیں لوٹتے ۔۔ لاکھ سرجریاں لاکھ تھراپیاں ہو جائیں ۔۔۔
ان جھلسے چہروں کو لے کر ، عورت پر ہو نے والی زیادتیاں دکھا کر ، این جی اوز والے فنڈز بھی اکھٹے کر لیتے ہو نگے اور ان بے شناخت چہروں کو استعمال کر کے ، فلمیں بنا کر ، عالمی ایوارڈ بھی مل جاتے ہو نگے مگر کیا ان جھلسے جسموں کو ان کے چہرے کبھی واپس ملتے ہیں ؟ نہیں نا ۔۔۔۔۔۔تو کم از کم ایسی کڑی سزائیں رکھی جائیں کہ کوئی اپنی مردانگی کو تسکین پہنچانے کے لئے ، یا کسی سے انتقام لینے کے لئے ، یہ گھناونا کام کر نے کا سوچے بھی نہ ۔۔ دوسرے کی زندگی کو عبرت بنانے کی بجائے ، اپنے آپ کو عبرت کے مقام پر دیکھے گا تو یوں بے دھڑک یہ جرم نہیں کرے گا ۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینی چاہیئے اور تیزاب پھینکنے والوں کے چہرے پر سر عام تیزاب پھینکنا چاہئے ۔۔۔۔ آنکھ کے بدلے آنکھ والے قانون کبھی کبھار بالکل درست لگتے ۔

تیزاب گردی کے ان واقعات کی روک تھام کے لئے پارلیمنٹ میں بل پاس ہونا یا قانون بننا ہی کافی نہیں ۔ اس کے مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دنیا بھی ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں چیف جسسٹس سے اپیل کرتی ہوں کہ کسی ایک کیس کو مثال بنا کر انسانی بربریت اور رذالت کی اس کہانی کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔ ختم شُد

آپ کے کمنٹ کا شدت سے انتظار رہے گا.
شاکرہ نندنی