58

انکاؤنٹر میں کتنے لوگوں کو ماریں گے؟

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ایک برس قبل بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد وہاں پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک مہم شروع کی۔پچھلے نو مہینے کے اندر ریاست میں ایک ہزار سے زیادہ انکاؤنٹر ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ان پولیس تصادموں میں اب تک 38 جرائم پیشہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ تقریباً تین سو زخمی ہوئے اور دو ہزار سے زیادہ مجرموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔حزب اختلاف کی جماعتوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس انکاؤنٹر کا سلسلہ بند کرے کیونکہ بقول ان کے ان میں بہت سے بے قصور افراد بلا وجہ مارے جا رہے ہیں۔یہ بھی پڑھیےانڈیا: پولیس نے ’موت کے سوداگر‘ کو ہلاک کر دیاانکاؤنٹر پر انعام: پولیس کی نگرانی کا منصوبہممبئی میں پولیس ‘انکاؤنٹرز’ کا سچان کا یہ بھی الزام ہے ان میں سے بہت سے انکاؤنٹر فرضی تھے۔پچھلے دنوں دہلی کے نواح میں اتر پردیش پولیس نے شادی کی تقریب سے لوٹنے والی ایک فیملی کی کار پر گولی چلا دی۔ پولیس نے انہیں جرائم پیشہ بتایا۔ کار میں دو افراد کو گولی لگی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے بعد کئی پولیس والوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس انہیں ڈاکو سمجھ رہی تھی۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امن و قانون کا نظام قائم کرنے کے لیے انتظامی سختی ضروری ہے لیکن اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہر چھوٹے بڑے جرائم پیشہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جائے۔اس طرح کے طریقہ کار پر ہمیشہ نکتہ چینی ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی ہوتی رہے گی۔ انکاؤنٹر صرف مخصوص حالات میں کسی کیس کا آخری حل ہو سکتا ہے۔اس کے لیے جو ضابطے طے کیے گئے ہیں ان کے مطابق انکاؤنٹر میں ہر ہلاکت کو قتل کے طور پر درج کیا جاتا ہے اور اس کی تفتیش مجسٹریٹ کی سطح پر ہوتی ہے تاکہ کوئی نا انصافی نہ ہو سکے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  زینب کے قتل پر پاکستان میں غم و غصہ کی لہر

اتر پردیش میں نو مہینے کے اندر پولیس کے ہاتھوں 38 ہلاکتیں تشویش کا باعث ہیں۔جمہوری ملکوں میں تشدد کا اختیار صرف ریاست کو دیا گیا ہے اور ریاست سے کوئی زیادتی نہ سرزد ہونے پائے اس لیے ان اختیارات کو بھی کئی طرح کے ضابطوں کے تحت رکھا گیا ہے۔کسی کی زندگی لینے کا اختیار ریاست کو انتہائی شاذ ونادر حالات میں دیا گیا ہے۔ اتر پردیش میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف مہم قابل ستائش ہے لیکن پوری ریاست میں موت اور انکاؤنٹر کی دہشت پیدا کرنا بہترین انتظامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔حقوق انسانی کے قومی کمیشن نے ریاستی حکومت کو کم ازکم 20 انکاؤنٹر معاملوں میں نوٹس بھیجا ہے اور وضاحت طلب کی ہے۔جرائم پر قابو پانے کے لیے ایک برس کی مدت میں 38 افراد کو ہلاک کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست میں پولیس کا نظام انتشار اور بدنظمی کی گرفت میں ہے۔ریاستی حکومت کو یہ بات بھی ذہن نشیں کر لینی چاہیے کہ ریاست میں جرائم پر قابو پانا اس لیے بھی مشکل رہا ہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کو ہر دور میں سیاسی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔