17

’’انسانی ڈھال‘‘ انصاف کی تلاش میں

یہ پچھلے سال 9 اپریل کی سہانی صبح تھی۔ ستائیس سالہ کشمیری نوجوان‘ فاروق احمد ڈار اپنی موٹرسائیکل میں حسین و جمیل فطری مناظر سے لطف اندوز ہوتے ایک عزیز کے گھر تعزیت کرنے جا رہا تھا۔
فاروق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگرام میں چل براسی نامی گاؤں کا رہائشی تھا۔ آج مقبوضہ کشمیر میں ریاستی انتخابات ہو رہے تھے اور وہ پولنگ بوتھ سے ووٹ ڈال کر آ رہا تھا۔ اچانک بھارتی فوج کی ایک چوکی پر اسے روک لیا گیا۔ بیچارے فاروق احمد کے ساتھ پھر جو کچھ ہوا‘ وہ ایک خوفناک خواب بن کر آج بھی اسے خوفزدہ دیتا ہے۔
ہوا یہ کہ بھارتی فوج کے افسر،میجر لیتول گو گوئی کے حکم پر بھارتی فوجیوں نے اسے ایک جیپ کے آگے رسیوں سے باندھ دیا۔ وہ چیختا چلاتا رہ گیا مگرظالموں کو اس پر رحم نہ آیا۔ بھارتی فوجیوں نے پھر ایک پرچار فاروق کے سینے پر چپکا دیا۔
اس پر درج تھا ’’: پتھر مارنے والوں کا ایسا ہی حال ہو گا۔‘‘دراصل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز سے شدید نفرت کی جاتی ہے۔ جب بھی بھارتی فوج مجاہدین کا تعاقب کرتی کسی علاقے میں جائے تو وہاں آباد کشمیری بلا خوف و خطر بھارتی فوجیوں پر پتھر برسانے لگتے ہیں۔ آج پتھر نہتے کشمیریوں کا سب سے اہم ہتھیار بن چکا۔
اکثردیکھا گیا ہے کہ مشین گنوں اور بموں سے لیس بھارتی فوج کشمیری عوام کی پتھر بازی سے گھبرا کر رفو چکر ہو جاتی ہے۔ اب بھارتی فوجی افسروں نے پتھر مارنے والوں کو دہمکی دینے اور خوفزدہ کرنے کے لیے ایک غیر انسانی اورنہایت ظالمانہ طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ انھوں نے ایک انسان کوجیپ کے آگے باندھا اور گاڑی اردگرد کے دیہات میں گھمانے پھرانے لگے۔یوں بھارتی فوج نے ایک جیتے جاگتے انسان کو اپنی ڈھال بنا لیا۔
9 اپریل کے اس دن ایک دو نہیں پورے پانچ گھنٹے بھارتی فوج کی جیپ کشمیریوں کے دیہات میں گھومتی پھرتی رہی۔ گویا محمد فاروق کوئی جیتا جاگتا انسان نہیں جذبات و احساسات سے عاری روبوٹ ہو۔ انسانی تاریخ میں شاید ہی کسی فوج نے انسان کی ایسی بے توقیری اور بے عزتی کی ہو۔
یوں بھارتی فوج کا اصل مکروہ چہرہ کشمیری عوام اور دنیا والوں کے سامنے آگیا۔ طاقت کے نشے میں چور یہ فوج کشمیریوں کو کیڑے مکوڑے اور اپنا غلام سمجھتی ہے۔ اسی لیے ایک بے قصور شہری محمد فاروق کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا۔
جیپ سے بندھے محمد فاروق کی پریڈ کراکر بھارتی فوج کشمیری عوام پر خوف و دہشت بٹھانا چاہتی تھی۔ مگر مغروربھارتی جرنیلوں اور حکمرانوں کو شاید احساس نہیں کہ اس قسم کے ظالمانہ اقدامات سے کشمیریوں میں ان کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ آج وادی کشمیر میں ہر چھوٹا بڑا ’’ہم مانگیں آزادی‘‘ کے نعرے لگاتا نظر آتا ہے۔
پانچ گھنٹے باندھے رکھنے کے بعد بھارتی فوج نے فاروق احمد کو آزاد کردیا۔ اس کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔وہ دیر تک سڑک کنارے پڑا تکلیف سے کراہتا رہا۔جب گاؤں والوں کو اس کی حالت ِزار کا علم ہوا تو ا اسے چار پائی پر لاد کر گھر پہنچایا جہاں بوڑھی ماں اس کا انتظار کررہی تھی۔ ماں نے اسے تکلیف اور تھکن سے چور چور دیکھا، تو دھاڑیں مار کر رونے لگی۔
فاروق احمد ایک غریب و مسکین نوجوان ہے۔ وہ شالیں بن کر ماہانہ تین ہزار روپے کماتا تھا۔ اس سے زیادہ کمانے کی اسے ہوس بھی نہیں تھی۔ گھر میں وہ تھا اور بوڑھی ماں! تین ہزار میں باآسانی ان کا مہینہ گزرجاتا مگر ظالم بھارتی فوجیوں نے فاروق احمد کی چھوٹی سی خوش و خرم دنیا تباہ و برباد کردی۔
پانچ گھنٹے رسیوں سے بندھا رہنے نے فاروق کے بازوؤں کے عضلات کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی لیے علاج کرانے کے باوجود بازو آج بھی درد کرتے ہیں۔ تکلیف کی وجہ سے فاروق بہت سست رفتاری سے شال بُن پاتا ہے۔ اسی لیے اس کی آمدن بھی کم ہوچکی۔ وہ اب مہینے میں صرف ایک ہزار روپے کما پاتا ہے۔ ماں بیٹا بڑی تنگی ترشی میں دن کاٹ رہے ہیں۔
بوڑھی ماں کا سب سے بڑا سپنا یہ تھا کہ وہ اپنے راج دلارے کی شادی کردے۔ لیکن جابر بھارتی فوج نے اس کا یہ حسین خواب بھی آئینے کی طرح کرچی کرچی کردیا۔ اب ماں بیٹے کا پیٹ بمشکل بھرتا ہے، تیسرا جی آکر کہاں سے کھائے گا؟
جیپ سے پانچ گھنٹے بندھے رہنے کے ظلم نے فاروق پر زبردست جسمانی و نفسیاتی اثرات ڈالے۔ وہ آج بھی اکثر راتوں کو سوتے سوتے اٹھ بیٹھتا ہے۔ بھارتی فوجیوں کے کرخت چہرے نیند میں آکر اسے ڈرا دیتے ہیں۔ ایک سال گزر چکا مگر وہ خود پر بیتے دلدوز واقعے کو بھلا نہیں سکا۔ اپنی تکلیف و ذلت کا بے رحم احساس اسے خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیتا ہے۔ پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس دن جان بچ گئی۔ اگر ظالم بھارتی فوجی اسے گولی مار دیتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا؟
اس ظالمانہ واقعے کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ جس میجر لیتول گوگوئی نے ایک زندہ انسان کو جیپ سے باندھ کر حیوانوں کی طرح گھمایا پھرایا، بھارتی میڈیا نے اسے ’’ہیرو‘‘ قرار دیا۔ کہا گیا کہ اس نے ’’دہشت گردوں‘‘ کو سبق سکھانے کے لیے درست قدم اٹھایا۔ یہی نہیں، بھارتی فوج نے یہ ’’دلیرانہ کارنامہ‘‘ انجام دینے پر میجر کو میڈل سے نواز دیا۔ گویا بھارتی فوج نے بے غیرتی اور بے حسی کی تمام حدیں پار کرلیں۔
ہونا یہ چاہیے تھا کہ ایک بے گناہ انسان پر ظلم ڈھانے پر میجر گوگوئی کا کورٹ مارشل کیا جاتا لیکن وہ تو بھارتی فوج اور بھارتی میڈیا کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ گویا بھارت میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ظلم کرنے والا ہیرو بن گیا اور مظلوم زیرو! شاید ہی کسی اور قوم نے انسانیت کی ایسی تذلیل کی ہو۔
آخر مقبوضہ کشمیر کے انسانی حقوق کمیشن کو فاروق احمد پر رحم آیا اور اس نے کشمیری نوجوان کی طرف سے ہائی کورٹ میں میجر گوگوئی پر مقدمہ کردیا۔ کمیشن چاہتا ہے کہ فاروق احمد کو جسمانی و نفسیاتی ایذا پہنچانے پر بھارتی میجر اسے معقول رقم بطور ہرجانہ ادا کرے۔ لیکن فاروق احمد کو بھارتی عدالت سے انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں۔ وہ کہتا ہے ’’جب انصاف دینے والے ہی مجرم کے ساتھی و ہمنوا ہوں، تو وہ عدل کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘
فاروق احمد کو ہرجانے سے کوئی غرض نہیں، وہ بس یہ چاہتا ہے کہ بھارتی میجر کو سزا مل جائے۔ یوں ثابت ہوسکے گا کہ اس نے ایک بے گناہ کشمیری کو جیپ سے باندھ کر ناروا قدم اٹھایا۔
فاروق کہتا ہے کہ اگر بھارتی میجر کو سزا نہ ملی، تو بھارتی فوج کے دیگر افسروں کو کھلی چھٹی مل جائے گی کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کرنے لگیں۔ بھارتی فوجی افسر کو سزا نہ ملنے کا نتیجہ ہے کہ جموں میں انتہا پسند ہندوؤں میں اتنی جرأت پیدا ہو گئی کہ انھوں نے ایک معصوم مسلم لڑکی،آصفہ بانو کو دن دیہاڑے اغوا کیا،اس پر ظلم ڈھایا اور قتل کر دیا۔
مشہور امریکی مدیر تھامس جیفرسن کا قول ہے ’’جب ناانصافی قانون بن جائے، تو پھر اس کے خلاف مزاحمت کرنا ہر شہری کی ذمے داری بن جاتی ہے۔‘‘آج مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکمرانوں اور بھارتی فوج کی ناانصافی قانون کا درجہ پاچکی۔ یہی وجہ ہے، کشمیریوں کی نئی نسل پوری قوت سے بھارتی تسلط و غضب کا مقابلہ کرنے لگی ہے۔
The post ’’انسانی ڈھال‘‘ انصاف کی تلاش میں appeared first on ایکسپریس اردو.