165

اندھیرے کا سفر

شام کا دھندلکا اب آہستہ آہستہ تاریکی کی دبیز چادر میں چھپنے لگا تھا۔ وہ حسبِ معمول کالج سے لوٹ رہی تھی، کالج سے اِس کا گاؤں کافی دُور تھا اور یہ طویل راستہ اُسے پیدل ہی طَے کرنا پڑتا تھا، اس راستے سے سواری کا گزرنہ تھا۔ ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں اور ناہموار راستے سے وہ تنہا گزرتی، گھاس کے فرش پہ اس کے پاؤں اٹھلاتے، وہ زندگی کے اُس دَور میں قدم رکھ چکی تھی جس میں چاند کا روشن چہرہ ہر وقت آنکھوں میں چمکتا رہتا ہے…اُمیدیں ستاروں کی طرح جھلملاتی ہیں۔ اس کے دل میں ایک نَو شگفتہ کلی قطرہ قطرہ شبنم کی ممنون ہونے لگی تھی۔ آکاش کی نیلی وسعتوں میں جب بھی کوئی شہباز اپنے پر پھیلائے منڈلاتا تو اس کے جی میں آتا کہ وہ خود سے بے خبر ہوجائے—اس کے اندر کوئی بے نام خواہش انگڑائیاں لینے لگتی، پھر یوں ہوتا کہ اس کے پاؤں لڑکھڑانے لگتے اُس کی سانسیں تیز ہوجاتیں —

دِن بھر کا تھکا سورج واپس لوٹ چکا تھا۔ وہ اندھیرے کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ اچانک اُسے کسی کی آواز سنائی دی۔ اُس نے پلٹ کر دیکھا، ایک نوجوان تیزی سے اُس کی طرف بڑھا آرہا تھا۔
”سنیے!“
”جی۔“
”مَیں نے آپ کو آواز دی تھی۔“ نوجوان اس کے رُوبرو تھا۔
”کیوں؟“ اُس نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا۔
”آپ مجھے پہچانتی ہیں؟“
”نہیں“ اُس نے جواب دیا۔
”میں آپ کے ساتھ برسوں پہلے بچپن میں …“وہ ایک لمحہ کے لیے سوچ میں پڑگئی پھر کچھ توقّف کے بعد بولی ”تو آج کیوں شرمندہ کررہے ہو!“
بیک وقت دونوں ہنس پڑے۔ پھر اس لمبی سڑک پہ دونوں دُور تک چلتے رہے، چلتے رہے… راستے نے دونوں کے قدموں کے نشان اپنے سینے پہ ثبت کرلیے۔
وہ پھر کالج سے لوٹ رہی تھی۔ لمبی سڑک پہ دُور دُور تک کوئی نہ تھا، اور وہ جلدی جلدی اپنے گھر کی جانب بڑھ رہی تھی… ہوائیں تیز تیز چلنے لگیں اور طوفان بن کر اُسے ڈرانے لگیں۔ وہ سڑک کے بیچوں بیچ پھنس کر رہ گئی۔ درختوں کے جڑوں سے اُکھڑنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ اُس کا دل خوف سے سہما جارہا تھا اُس پہ ایک لرزہ سا طاری ہوگیا تھا، ایک پُراسرار مبہم سا خیال اُس کے دل میں سر اُبھارنے لگا۔

اچانک اُسے کسی کی آواز سنائی دی اُس نے پیچھے مڑکر دیکھا رمیز اُسے پکار رہا تھا۔
اچانک طوفانی ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس کا دو پٹّہ ہوا میں اُڑگیا وہ شرماسی گئی پھر اس نے دیکھا کہ رمیز کا ہاتھ لمبا ہوتا جارہا ہے اور دوپٹہ کی طرف بڑھتا چلا جارہا ہے یہاں تک کہ دو پٹّہ ہوا میں اُوپر کی جانب اُڑتا چلا جارہا تھا اور جیوں جیوں اس کا دو پٹّہ ہوا میں اُڑتا جارہا تھا، رمیز کا ہاتھ لمبا ہوتا جارہا تھا۔ اس کے ہونٹوں سے ایک چیخ نکل گئی اور وہ کا نپ کر رہ گئی کیونکہ رمیز کے لمبے ہوتے ہوئے ہاتھوں سے کئی اور ہاتھ نکل رہے تھے جو دو پٹّے میں لپٹے اس کےوجود کو ٹکڑوں میں بانٹ کر بیشمار آنکھوں کی نذر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
سڑک پر اب صدیوں سے کسی کے قدموں کی آہٹ سُنائی نہیں دیتی،
کہنے کو تو سُورج روز ہی نکلتا ہے۔ ¡¡

ختم شُد
حوصلہ افزائی کیلئے آپکی ای میل کا انتظار رہے گا
[email protected]