26

امن مذاکرات کی حمایت لیکن یہ افغان حکومت کی قیادت میں ہوں: افغانستان

روس کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کے سیاسی حل کے لیے تمام فریقین  کے لیے کسی متفقہ معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے جبکہ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات افغان حکومت کی سرپرستی اور قیادت میں ہونے چاہیے۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں افغانستان میں قیام  امن کے لیے کانفرنس سے خطاب میں روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاروف کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ذریعے افغان طالبان کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لیے طالبان اور حکومت کے مابین براہراست بات چیت کے لیے ساز گار ماحول فراہم کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ روس کی جانب سے اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد افغانستان کے دوست ممالک، اور علاقائی ممالک  کو ساتھ بیٹھانا ہے تاکہ افغان حکومت کی مذاکرات شروع میں مدد کی جا سکے۔

ماسکو میں ہونے والی اس کانفرنس میں گو کہ افغان حکومتی وفد شرکت نہیں کر رہا ہے لیکن افغان طالبان کو مذاکرات کی میز  پر لانے کے لیے تشکیل دی گئی ہائی پیس کونسل کا وفد شرکت کر رہا ہے۔

اس کانفرنس میں افغان طالبان کا وفد بھی شریک ہے۔

دوسری جانب افغان حکومت نے روس کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کی کوششوں کو سراہتا ہے جو امن کے حصول کے لیے افغانستان کی حمایت کرتا ہے لیکن یہ امن عمل افغان حکومت کی سرپرستی اور قیادت میں ہونا چاہیے۔

ماسکو کانفرنس ختم ہونے کے بعد افغان وزارات خارجہ کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ کہ جمعے کو ماسکومیں ہونے والی کانفرنس گزشتہ ملاقاتوں کا تسلسل نہیں ہے ماضی میں ہونے والی کانفرنس خود مختار ممالک کے درمیان تھی جس میں افغانستان کی حکومت نے بھی شرکت کی تھی جبکہ آج کے اجلاس میں طالبان کو بھی مدعو کیا گیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  افغانستان میں سیلاب سے ہلاکتیں، پاکستان کا اظہار افسوس

افغان حکومت کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب طالبان مذاکرات شرکت کی دوعوت قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس سفارتی کوشش میں ایک سیاسی حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کے مابین عدم اعتمادی اور  تحفظات کو ختم کیا جائے۔

روس نے کانفرنس میں بارہ ممالک کو مدعو کیا تھا جس میں  پاکستان، انڈیا، چین ایران سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔  تاہم پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں صرف نو ممالک کے وفود شرکت کررہے جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ایک ایڈیشنل سیکرٹری کررہے ہیں۔۔ 

​امریکہ نے گذشتہ اس کانفرنس کے بارے افغانستان سے بات چیت تصدیق کی تھی۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ماسکو میں امریکی سفارتخانے کا نمائندہ کانفرنس میں مبصر کی حیثیت سے شرکت کرے گا۔

کانفرنس سے خطاب میں روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاروف نے کہا  تمام ممالک دہشت گردی کے خطرات سے دوچار ہیں اور افغانستان دہشت گردوں کا ہدف رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش موجود ہے اور  اُن کے بیرونی سرپرست افغانستان کو دہشت گردوں کا گڑھ بنانا چاہتے ہیں تاکہ علاقائی امن کو ٹھیس پہنچائی جا سکے۔

زلمے خلیل زاد کا افغانستان پاکستان کا دورہ

 افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے ماسکو کانفرنس ایک ایسے موقع پر ہو رہی جب امریکہ کی جانب بھی افغان طالبان سے مذاکرات کی کوشیشوں میں تیزی آئی ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  جب بھی نواز شریف اقتدار میں ہوتے ہیں عوام کو پیاسا رکھتے ہیں، بلاول بھٹو

ادھر امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد میں افغانستان پاکستان متحدہ عرب امارت اور قطر کا دورہ کر رہے ہیں۔

خلیل زاد 8 سے 20 نومبر مختلف ممالک کا دورہ میں اہم سرکاری عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں ۔

اس قبل وہ  گذشتہ ماہ اپنے دورے کے دوران انھوں نے افغان حکومت اور طالبان مذاکرات کے لیے بااختیار نمائندے مقرر کرنے زور دیا تھا۔

امریکی نمائندے خصوصی کے پاکستان کے دورے کے بعد پاکستان میں قید افغان طالبان کے رہنما ملا عبدالغنی برادار کو رہا کیا گیا تھا۔