18

افغان پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹروں کے اندراج کا عمل شروع

افغانستان میں ممکنہ طور پر اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی اور صوبائی انتخابات کے لیے ملک بھر میں ووٹوں کے اندراج کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ انتخابات 2015ء میں ہو جانے چاہیے تھے لیکن بوجوہ یہ تاخیر کا شکار ہوتے رہے۔

افغانستان کے خود مختار الیکشن کمیشن کے چیئرمین گلاجان سید نے ہفتہ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ووٹ ڈالنے کے اہل افراد ملک بھر میں قائم لگ بھگ 7300 پولنگ مراکز میں اپنے آپ کو رجسٹر کروا سکتے ہیں۔

2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد فراڈ اور دھاندلی کے الزمات کے بعد تجویز کردہ انتخابی اصلاحات کے تحت ووٹروں کی نئی رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا گیا اور اب اسی سلسلے میں انہیں ووٹ کے لیے نیا شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا۔

اپریل کے آغاز میں خود مختار الیکشن کمیشن نے پارلیمانی اور صوبائی کونسلز کے انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب یہ انتخابات 20 اکتوبر کو ہوں گے جبکہ قبل ازیں ان کا انعقاد رواں سال جولائی میں ہونا تھا۔

افغانستان میں انتخابات سے متعلق غیر سرکاری تنظیم ‘فری اینڈ فئیر الیکشن فورم’ کے سربراہ محمد یوسف رشید نے کہا کہ ملک میں 7 ہزار تین سو پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے اور ان میں سے 948 ایسے علاقوں میں قائم کیے جائیں گے جو “حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔”