16

افضل گورو کی میت کی واپسی کا ایک بار پھر مطالبہ

انڈیا کی پارلیمان پر سنہ 2001 میں ہونے والے مسلح حملے کی سازش میں کشمیر کے عسکریت پسند افضل گورو کو نو فروری 2013 کی صبح دلی کی تہاڑ جیل میں خفیہ طور پر پھانسی دی گئی۔اس وقت جیل میں ان کے ہمراہ 80 سالہ کشمیری قیدی رفیق شاہ رہا ہوئے تھے۔رفیق شاہ کا کہنا ہے کہ افضل گورو کو مطلع نہیں کیا گیا تھا کہ انھیں پھانسی دی جا رہی ہے لیکن جب انھیں جیل حکام کی سرگرمیوں پر شک ہوا تو انھوں نے اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی درخواست کی جسے مسترد کر دیا گیا۔ یہ بھی پڑھیےافضل گورو کے بیٹے غالب نے کامیابی کا پرچم لہرایاافضل گورو کی برسی پر کشمیر میں ہڑتالافضل گورو کی پانچویں برسی پر جمعے کو کشمیر میں عام ہڑتال کی گئی جبکہ مظاہروں کو روکنے کے لیے علیحدگی پسند رہنماوں کو قید اور بیشتر علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ افضل گورو کی پھانسی سے کشمیر میں سنسنی پھیل گئی تھی اور دو ہفتوں تک مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا تھا جس کے دوران پولیس کارروائی میں کئی نوجوان مارے گئے تھے۔

انڈیا کے زیر اتنظام کشمیر میں ہر سال نو فروری کو ہڑتال ہوتی ہے اور بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔ افضل گورو کی پانچویں برسی پر جمعے کو بھی کشمیر بند رہا جبکہ کئی علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی تاہم اس کے باوجود کئی مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔پھانسی کے وقت افضل گورو کی عمر 44 برس تھی۔ وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک سابق عسکریت پسند تھے جنھوں نے سنہ 1990 کی دہائی کے دوران والدین اور اہلیہ کے کہنے پر مسلح تحریک کا راستہ ترک کر کے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور نئی دہلی میں ایک دوا ساز کمپنی کے مینیجر بن گئے تھے۔13 دسمبر سنہ 2001 کو انڈین پارلیمان پر مسلح حملہ کیا گیا اور اس کے دو دنوں بعد افضل گورو، ان کے بھائی اور اہلیہ افشاں گورو سمیت کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔جس غیر ضروری راز داری کے ساتھ افضل گورو کو پھانسی دی گئی اس نے کشمیر میں انڈین جمہوریت اور انصاف کے اداروں کو بےوقعت بنا دیا۔ افضل گورو کو قانونی پیروی کا موقع نہیں دیا اور انھیں انڈین پارلیمان حملے کی سازش کا محض حصہ جتلا کر ’قومی ضمیر کے اطمینان کی خاطر‘ پھانسی کا مستحق قرار دیا گیا۔ اس معاملے میں جلد بازی کا عالم یہ تھا کہ پھانسی کے مستحق افراد کی فہرست میں افضل گورو کا نمبر 19 واں تھا لیکن انڈیا میں انتخابات سے عین قبل افضل گورو کی اہل خانہ سے ملاقات کروائے بغیر ہی انھیں پھانسی دے دی گئی۔کشمیر میں ایسی ہی ایک پھانسی کا واقعہ 11 فروری سنہ 1984 کو پیش آیا تھا۔ اس روز لبریشن فرنٹ کے رہنما اور کشمیر میں مسلح تحریک کے بانی محمد مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  امریکی وزیردفاع نے پاکستان آنے سے پہلے ہی ڈو مور شروع کردیا

اس واقعے کے تین سال بعد کشمیریوں نے مسلح مزاحمت کا آغاز کیا لیکن یہ مزاحمت داخلی انتشار اور حکومت ہند کی جانب سے جنگی پیمانے پر کی جانے والی انسدادی کارروائیوں کے باعث چند برس میں ہی کمزور پڑ گئی۔ 27 سالہ مسلح شورش اب ہلاکتوں اور اندوہناکیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک کہتے ہیں: ’آج کل کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوان مرنے مارنے پر آمادہ ہیں۔ وہ اب پولیس پر حملے کر کے ان سے ہتھیار چھینتے ہیں۔ یہ اسی ہمالیائی ناانصافی کا نتیجہ ہے جو نو فروری سنہ 2013 کو ہوئی۔‘چند سال قبل کانگریس پارٹی کے مقامی رکن اسمبلی نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ افضل گورو کی پھانسی ایک ‘قومی غلطی’ تھی لیکن یہ بیان ایک آزاد رکن اسمبلی انجینئیر عبدالرشید کے اصرار کے بعد اس وقت دیا گیا جب ان سے کانگریس نے راجیہ سبھا کے انتخابات میں حمایت کی درخواست کی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند عالمی برادری تو دُور، افضل گورو کے معاملے میں پاکستان کو بھی اس بات پر قائل نہ کر سکے کہ باقیات کی واپسی کے لیے عالمی اداروں میں مہم چھیڑ دے۔ لہٰذا افضل گورو کا معاملہ اب ہند نوازوں کی مقامی سیاست اور اقتدار کی رسہ کشی میں لہجہ سازی کا محض ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ افضل گورو کی بیوہ تبسم گورو اپنے بیٹے غالب کے ہمراہ اب سوپور کے اسی مکان میں رہتی ہیں جس کا راستہ ایک وسیع فوجی کیمپ کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہے۔ غالب نے 12 ویں جماعت کا امتحان پاس کر کے میڈیکل کالج میں داخلہ کی تیاری شروع کر دی ہے۔تبسم کہتی ہیں: ‘انڈیا سے نفرت اب میرا مذہب ہے۔ میرے ساتھ جو ہوا اس پر انڈیا کی پوری آبادی کو شرم آنی چاہیے۔ لاش تو دور، افضل کی تحریریں، ان کا چشمہ اور ان کے کپڑے تک نہیں دیے گئے۔ آپ کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں؟’

اس خبرکوبھی پڑھیں:  انگریزی اخبار کے رپورٹر کی حراست اور رہائی - ایکسپریس اردو

واضح رہے کشمیر کے سماجی حلقوں میں گذشتہ کئی سال سے افضل گورو کی میت واپس لانے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم مختلف گروپوں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹیز نے جموں کشمیر کے 850 شہریوں کی جانب سے دستخط شدہ درخواست حکومت ہند کو پیش کی تھی۔اس درخواست میں افضل گورو کے باقیات کشمیریوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس درخواست میں طالب علموں، اساتذہ، سیاسی اور سماجی کارکنوں، صحافیوں اور بعض سرکاری ملازمین کے دستخط ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے سے ناراضی کے باوجود علیحدگی پسند رہنماؤں نے’متحدہ مجلس مشاورت’ کے قیام کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ افضل گورو کی باقیات واپس لانے کے لیے عالمی سطح سیاسی اور سفارتی جدوجہد کرے گی۔لیکن سول سوسائٹی یا علیحدگی پسندوں کی ان کاوشوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور حکومت ہند نے میت واپس کرنے کے معاملے پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔