38

اعلامیہ جس نے عرب اسرائیل تنازعے کو جنم دیا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

برطانوی کے سابق وزیر خارجہ آرتھر بالفور کا مقامی سکولوں کے نصاب میں تذکرہ سننے کو نہیں ملتا لیکن اسرائیل اور فلسطین کے کئی طالب علم ان کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ان کا بالفور اعلامیہ دو نومبر 1917 میں جاری ہوا تھا، اس کے بارے میں تاریخ کی کلاسوں میں پڑھایا جاتا ہے اور اہم باب کو اسرائیل اور فلسطین میں ایک بالکل الگ الگ قومی بیانیے میں پڑھایا جاتا ہے۔وہ جنگ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا’اسرائیل بالکل بھی نسل پرست نہیں‘اسرائیل کے ساتھ ’تعاون‘ کا الزام، تین فلسطینوں کو پھانسیاس اعلامیے کو عرب اسرائیل تنازع کے آغاز کی وجہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس وقت کے وزیر خارجہ آرتھر بالفور کے اعلامیے کا ذکر صیہونیت کے مرکزی حمایتی لارڈ والٹر روتھسچائلڈ کو لکھے گئے ایک خط میں شامل ہے۔ صیہونیت تحریک کا مقصد یہودیوں کی اپنی تاریخی سرزمین پر بحیرہ روم سے دریائے اردن کے مشرقی کنارے تک یہودی ریاست قائم کرنا تھا۔ اس علاقے کو فلسطین کہا جاتا تھا۔اس میں کہا گیا تھا کہ برطانوی حکومت یہودیوں کے لیے فلسطین میں ملک کے قیام کے حق میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا تھا کہ اس وقت وہاں موجود غیر یہودی برادریوں کے سول اور مذہبی حقوق کے ساتھ تعصب نہیں برتنا چاہیے۔ فلسطینیوں نے اس کو بہت بڑے دھوکے کے طور پر دیکھا، خاص کر ایک علیحدہ وعدے کے بارے میں، جس میں کہا گیا تھا کہ عربوں کی سیاسی اور عسکری مدد کرنا تھی جو پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کی حکمرانی میں تھے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  لیڈی ڈیانا نے شادی کے چند ہفتوں بعد اقدام خودکشی کیا، برطانوی اخبار - ایکسپریس اردو

اس میں رائے دی گئی تھی کہ برطانیہ سلطنتِ عثمانیہ کے زیادہ تر حصے میں ان کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرے گا۔ عربوں نے سمجھا کہ اس میں فلسطین بھی شامل ہے اگرچہ اس کا بالخصوص تذکرہ نہیں تھا۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ فلسطینی عوام کے ساتھ جرم کا مرتکب ہوا؟ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے سکول میں ایک ٹیچر نے سبق پڑھانے کے دوران بچوں سے پوچھا۔تو کلاس میں ہر ایک نے ہاتھ کھڑے کر کے اس کی تائید کی۔ایک پندرہ برس کی لڑکی نے کہا کہ یہ اعلامیہ خلاف قانون تھا کیونکہ فلسطین سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اور برطانوی اس کو کنٹرول نہیں کرتے تھے۔ برطانیہ نے عربوں کو اقلیت کے طور پر لیا حلانکہ وہ آبادی کا نوے فیصد تھے۔ بالفور اعلامیے کو ہائی سکول کے آخری سالوں میں پڑھتے والے اسرائیلی بچے اس اعلامیے کو برطانوی مداخلت کو مثبت انداز میں لیتے ہیں۔شمالی اسرائیل کے ایک گاؤں بالفوریا کی رہائشی نو سالہ نوگا یازوکلی فخر سے عبرانی زبان میں اعلامیے کو پڑھ سکتی ہیں۔ ان کے والد نیو بالفور اعلامیے کے بارے میں کہتے ہیں کہ جس وقت یہ اعلامیہ جاری ہوا اس سے صیہونی تحریک کو ایک بڑی امید اور بڑا عزم ملا۔ لوگوں نے دیکھا کہ اگر برطانوی حکومت نے اس قسم کا اعلامیہ جاری کیا ہے تو اس صورت میں ایک دن یہودیوں کا وطن بن سکتا ہے جو حقیقت میں1948 میں ہو گیا جب اسرائیل کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آ گیا۔

نیو کے دادا سمیت بیلفوریا کے دیگر رہائشیوں سمیت یہودی آبادی 1925 میں فلسطینن میں بڑھ رہی تھی جب لارڈ بالفور نے وہاں کا دورہ کیا تو ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔اس وقت یہ علاقہ برطانیہ کے زیرانتظام تھا۔ بالفور اعلامیہ باضابطہ پور پر برطانیہ کے فلسطین کے بارے میں مینڈیٹ کا احاطہ کرتا ہے۔ اس مینڈیٹ کے پہلے حصے میں برطانیہ نے یہودی تارکین وطن کی بڑی تعداد میں آمد کی اجازت دی لیکن عرب مخالفت اور تشدد کے بڑھنے کے سبب اسرائیلیوں کو یاد ہے کہ خاص کر ہولوکاسٹ کے دنوں میں کس طرح تشدد اور جبر سے فرار ہونے والوں کا راستہ روکا گیا۔یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی کا افتتاح بالفور نے کیا تھا اور اس یونیورسٹی کی پروفیسر روتھ لپڈوتھ نے 67 الفاظ پر مشتمل اس دستاویز کو پڑھ رکھا ہے۔ اس بارے میں مزید پڑھیےکیا فلسطینی مملکت کا تصور ختم ہو گیا؟ٹرمپ کا حل:’فلسطینی ریاست ڈمپ’؟یونیسکو کی جانب سے بیت المقدس پر قرارداد منظور، اسرائیل ناراضفلسطینی مسئلے کا دو ریاستی حل ہے کیا؟بین الاقوامی قانون کی ماہر پروفیسر روتھ نے کہا کہ یہ اعلامیہ قانونی طور پر پابند کرتا تھا لیکن برطانوی کو اپنے وعدے کو پورا کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔جب نازی حکومت میں آئے تو سیاسی صورتحال کافی خراب تھی اور پھر انگلینڈ کو عرب ممالک کی دوستی کی صورت میں مدد کی ضرورت تھی۔ پھر ان کو اعلامیے پر عمل درآمد کو محدود کرنا پڑا اور یہ قابل افسوس ہے۔’پروفیسر روتھ نے دوسری جنگ عظیم شروع ہونے سے ایک برس قبل سنہ 1938 میں جرمنی چھوڑ دیا تھا اور اس وجہ سے ان کو اعلامیے میں ذاتی دلچسپی بھی ہے۔’میں اب بھی اس کی بہت شکر گزار ہوں، یہ میرے سمیت فلسطین واپس آنے کے حق کا اہم ذریعہ تھا۔ ‘اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے بالفور اعلامیے کو اپنے ملک کے قیام کے عمل میں ایک مرکزی سنگ میل سے تعیبر کیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  اسرائیل ہائی ٹیک عسکری طاقت کیسے بنا؟

برطانوی حکومت نے جعمرات کو انھیں اس اعلامیے کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں لندن مدعو کیا۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیام امن کی دم توڑتی امیدوں کے درمیان اس فیصلے نے فلسطینیوں کو اشتعال دلایا اور انھوں نے احتجاج کا پروگرام بنایا ہے۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ برطانیہ بالفور اعلامیے پر معافی مانگے۔ فلسطین کے وزیر تعلیم صابری صیدام کا کہنا ہے کہ’ گزرتے وقت کے ساتھ ان کے خیال میں برطانوی تاریخ کے سبق کو بھول رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینی اب بھی اسرائیل کے ساتھ اپنی ریاست کا قیام چاہتے ہیں اور تنازعے کو ختم کرنے کے خود ساختہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر ہے جس کو عالمی برادری کی حمایت بھی حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ’ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطین آزاد ہو جائے اور طویل عرصے سے ادھورا وعدہ پورا ہو۔’