65

اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی فلسھینی لڑکی عدالت میں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایک فلسطینی لڑکی جس کی ایک اسرائیل فوجی کو تھپڑ مارتے ہوئے ویڈیو انٹرنیٹ پر مقبول ہوگئی تھی، آج اسرائیل کی ایک فوجی عدالت میں پیش ہو رہی ہے۔17 سالہ احد تامیمی کے خلاف 12 دفعات عائد کی گئی ہیں جن میں سیکیورٹی اہلکار پر حملہ کرنا اور اشتعال انگیزی شامل ہیں۔ اگر انھیں مجرم پایا گیا تو وہ ایک لمبے عرصے کے لیے قید میں جا سکتی ہیں۔ فلسطینیوں کے لیے احد تامیمی اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گئی ہیں۔ دوسری جانب بہت سے اسرائیلی انھیں ایک پرتشدد مجرم سمجھتے ہیں جو کہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے احد کی رہائی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ احد تامیمی جب 16 سال کی تھیں تو ان کی والدہ نے ان کی ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں انھیں مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے گھر کے ڈرائیو وے میں دو اسرائیل فوجیوں کو تھپڑ مارتے اور دھکے دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ 15 دسمبر 2017 کو پیش آیا۔

بعد میں احد تامیمی کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کی والدہ کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کی دفعات عائد کی گئیں۔ اس کیس کی وجہ سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان متضاد رائے بڑھ چڑھ کر سامنے آئی۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل کے وزیرِ تعلیم نے کہا کہ احد تامیمی اور ان کی والدہ اپنی باقی عمر جیل میں گزارنے کی حقدار ہیں۔ دو سال قبل بھی ایک ویڈئو منظرِعام پر آئی تھی جس میں ایک نوجوان فلسطینی لڑکی کو ایک اسرائیلی فوجی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس اسرائیلی فوجی نے اس لڑکی کے بھائی کو پتھر پھینکنے کے شبہے میں حراست میں لیا تھا۔ اس موقعے پر ترک وزیراعظم طیب رجب اردوغان نے اس لڑکی کی تعریف کی تھی اور انھیں ایک خوصلہ مندانہ اعزاز بھی نوازا تھا۔احد تامیمی پہلی مرتبہ اس وقت مشہور ہوئیں جب 11 سال کی عمر میں انھوں نے ایک فوجی کو مارنے کی دھمکی دیۓ

اس خبرکوبھی پڑھیں:  ہندوؤں کا ناقابل قبول رویہ قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا - ایکسپریس اردو

فلسطینی انھیں اب ایک قومی ائیکون کی طرح دیکھتے ہیں اور ان کے لیے یہ سب کرنا بہادری ہے۔ احد کی تصاویر پوسٹرز اور گلیوں میں بنائے گیے میورلز میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایک مہم میں ان کی رہائی کے حق میں 17 لاکھ افراد نے حمایت کی ہے۔ خصوصی عدالتیںاحد تامیمی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی پر اس لیے بڑھکیں کیونکہ کہ اسی روز انھوں نے اپنی کزن کو ربڑ کی ایک گولی مارے جانے کی ویڈیو دیکھی تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے احد تامیمی سے گھر فوجیوں کو اس لیے بھیجا تھا کیونکہ وہاں سے فلسطینی نوجوان پتھراؤ کر رہے تھے۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کا کہنا ہے کہ احد تامیمی کا کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج کس طرح فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔ اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں نوجوانوں کے لیے بنائی گئی خصوصی فوجی عدالتوں میں 1400 فلسطینیوں کے خلاف مقدمات چلائے جا چکے ہیں۔ سول حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عدالتی نظام میں بنیادی تحفظات موجود نہیں ہیں اور اسعائیل کا نظام ایک منصفانہ مقدمے کی گارنٹی نہیں دیتا۔