41

استحصال اور سامراجیت کے بل بوتے پروان چڑھنے والی سلطنتیں

تاریخ میں بے شمار انسانی تہذیبیں ابھریں اور پھر زوال پذیر ہوگئیں۔ کچھ نے انسانیت کو امن اور خوشحالی سے ہمکنار کیا جبکہ چند نے ظلم اور بربریت سے تباہی و بربادی کی داستانیں رقم کیں۔
تباہی پھیلانے والی ان سلطنتوں نے ظلم کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے دشمنوں کے علاوہ اکثر اپنے ہی حلیفوں، یہاں تک کہ اپنے عوام کو بھی نہ بخشا اور ان پر رحم نہ کھایا۔ انہوں نے جب بھی کسی دشمن پر غلبہ پایا تو انہیں عبرت کا نشان بنادیا اور لاکھوں انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ذیل میں ایسی ہی سلطنتوں کی معلومات دی جارہی ہے جو شاید ہم میں سے بیشتر لوگوں کے لیے ناقابل یقین ہوں۔
1۔ دی کمینچی ایمپائر (The Comanche Empire)
’’کمینچی‘‘ براعظم امریکہ کے مقامی باشندے ہیں۔ تاریخی طور پر ان کا علاقہ موجودہ مشرقی نیو میکسیکو، جنوب مشرقی کولاریڈو، جنوب مغربی کنساس ریاست، مغربی اوکلوہامہ، شمال مغربی ٹیکساس کے بیشتر حصوں اور شمالی ’چیہوا ہوا‘ پر مشتمل تھا اور وہ لوگ گھوڑے پالتے اور شکار پر گزارا کرتے تھے۔ یہ امریکہ کا سب سے بڑا قبیلہ تھا جو اوپر بیان کیے گئے ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔
یہ لوگ اپنے دشمن پر ناقابل یقین حد تک اچانک کیے جانے والے ہولناک حملوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ ان اچانک حملوں میں وہ بچوں کو ذبح کرنے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ ان کی اسی دہشت کی وجہ سے اسپینش اور فرنچ زیادہ تر ان کے علاقوں سے دور ہی رہے۔ 1868ء سے لے کر 1881ء تک یورپی آباد کاروں کی جانب سے اس علاقے میں  اکتیس ملین بھینسوں کا منظم شکار کمینچی سلطنت کے زوال کا باعث بنا۔
-2 دی سلٹکس (The Celts)
’’سلٹکس‘‘ کی حکومت قدیم دور کے ان علاقوں میں قائم تھی جو آج فرانس، بلجیم اور انگلستان کہلاتے ہیں۔ ان کا تعلق یورپ کی ’’میڈیول ایج‘‘ (Medieval age) یا ’’لوہے کے دور‘‘ کے زمانے سے ہے۔ اس دور کی سپر پاور ’’رومن ایمپائر‘‘ کو بھی ’’سلٹکس‘‘ پر فتح حاصل کرنے میں زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کیونکہ ’’سلٹکس‘‘ ناقابل یقین حد تک تندخو بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی حد تک پاگل ہی تھے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ وہ جنگ کے دوران بالکل برہنہ ہوکر لڑتے تھے جو اس چیز کا اظہار ہوتا تھا کہ وہ مرنے سے نہیں ڈرتے۔ اور اگر وہ جنگ جیت جاتے تھے تو اپنے مارے جانے والے حریفوں کے سرکاٹ کر اپنے ساتھ گھر لے جاتے اور انہیں ٹرافیوں کی طرح سجا کر رکھتے۔
-3 دی وائی کنگ ایمپائر (The Viking Empire)
وائی لنگ سلطنت کی شروعات آٹھویں صدی کے اواخر یعنی 793 بعد از مسیح میں ہوئی اور گیارہویں صدی کے لگ بھگ تک برقرار رہی۔ یہ سلطنت جزیرہ نما سکینڈ نیویا کے ممالک ڈنمارک، ناروے اور سوئیڈن پر مشتمل تھی۔ وائی کنگ جرمن نسل کے لوگ تھے۔ انہوں نے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک انگلستان، فرانکش ایمپائر، اسپین اور روس میں غارت گری اور لوٹ مار شروع کردی۔ ان کا طریقۂ کار انتہائی ظالمانہ تھا۔
وہ غیر محفوظ یہاتوں پر چھاپے مارتے، وہاں قتل و غارت کرتے، عزتیں لوٹتے اور اس سے قبل کہ گاؤں والے سنبھلتے اور انہیں روکنے کی کوشش کرتے، وہ لوٹ مار کرکے چلتے بنتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اس بہیمانہ کام میں اتنے ماہر ہوتے چلے گئے کہ بہت ڈھٹائی کے ساتھ اپنے حملوں کا دائرہ کار بڑھاتے چلے گئے۔ لیکن ہر ظلم کی ایک حد ہوئی ہے۔ بالآخر ان کے ہمسائے میں رہنے والے لوگوں نے ان کے طریقہ کار کو بھانپتے ہوئے اپنا دفاع اس کے مطابق مضبوط کرلیاجس کے باعث وائی کنگز کے اچانک حملے بہت زیادہ کارآمد نہ ہوتے۔ جب ناروے کے بادشاہ ’’ہیرالڈ ہارڈ راڈا‘‘ (Harald Hardrada) کو انگلستان کے ہاتھوں ’’سٹپفورڈ برج‘‘ (Stamford Bride) کی جنگ میں شکست فاش ہوئی تو وائی کنگ اپنی طاقت کھو بیٹھے۔
-4 ماوری تہذیب (Maori Civilization)
ماوری، موجودہ نیوزی لینڈ کے قدیم مقامی باشندے ہیں۔ وہ اپنے زمانے میں بہت خوفناک جنگجو، آدم خور، غلاموں کے تاجر اور بہترین شکاری ہوتے تھے۔ ان کے تندخو اور غصیلے ہونے کی شہرت اتنی عام تھی کہ نیوزی لینڈ پہنچنے والے انگریز سامراجی جو خود بھی کم ظالم نہ تھے ان کے قریب پھٹکنے سے گریزاں ہی رہنے میں عافیت محسوس کرتے تھے۔ پہلے پہل جب انگریز کیپٹن جیمز کک (James Cook) نیوزی لینڈ پہنچا تو معاملات اتنے دگرگوں نہ تھے مگر جب اس کے ایک ساتھی ’’جیمز رو‘‘ (James Rowe) نے مقامی ماوری باشندوں کو ناراض کردیا تو وہ ان دونوں کو بغیر بھونے، کچا ہی کھاگئے۔
پھر جب انگریزوں کی بندوقیں ماوریوں کے ہاتھ لگیں تو پھر تو حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے۔ وہاں ایک قبائلی جنگ پھوٹ پڑی اور تقریباً 18,000 افراد اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انگریزوں اور ماوریوں کے درمیان یہ جنگ وجدل برس ہا برس تک چلی اور ہولناک خون ریزی بڑھتی ہی چلی گئی۔ آخر کار ماوری انگریزوں کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوئے اور یوں نیوزی لینڈ انگلستان کی کالونی بن گیا۔
-5 کونفیڈریٹ اسٹیٹس آف امریکا (Confederate States of America)
براعظم شمالی امریکہ کی گیارہ جنوبی ریاستوں کے اتحاد پر مشتمل یہ ملک 1861ء تا 1865ء قائم رہا۔ یہ ریاستیں غلامی جیسی لعنت کی پرجوش حامی تھیں کیونکہ ان کی معیشت کا دارومدار زیادہ تر زراعت پر تھا۔ جس میں غلام ایک اہم کردار ادا کرتے تھے۔ گو ان ریاستوں کے اس اتحاد کو بیرونی دنیا نے باقاعدہ تسلیم نہیں کیا تھا تاہم ان کا اپنا ایک صدر، ایک پرچم، اپنی کرنسی اور اپنی ہی ایک تہذیبی شناخت تھی (جو آج کے دن تک برقرار ہے)۔ لیکن اب ریاستوں کی اصل شناخت غلامی کے فروغ اور نیگرو غلاموں پر غیر انسانی تشدد، مارپیٹ اور عصمت دری کے لاکھوں واقعات کے وجہ سے ہے۔
خاص طور پر’’اینڈرسنول‘‘ (Andersonville) کے قیدیوں پر کیا جانے والا بہیمانہ اور غیرانسانی سلوک ان کی پہچان بن کر رہ گیا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ ملک زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور 1865ء میں اپنے قیام کے محض چار سال بعد یہ ابرام لنکن کی فوجوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوکر اپنے انجام کو پہنچا اور اب ریاست ہائے متحدہ امریکا کا حصہ ہے۔
-6 قدیم مصری سلطنت (Ancient Egyptian Empire)
دریائے نیل کے کنارے جنم لینے اور عروج حاصل کرنے والی شمالی افریقہ کی اس مشہور اور معروف تہذیب سے اکثر لوگ واقف ہیں۔ جہاں اس تہذیب میں سماجی ترقی کو لے کر بہت سی اچھی باتیں تھیں وہیں بدقسمتی سے کئی چیزیں بہت بری بھی پائی جاتی تھیں۔ مثلاً قدیم مصر میں غلامی کا نظام رائج تھا اور غلاموں کے ساتھ انتہائی برا سلوک روا رکھا جاتا تھا۔
تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اگر کوئی مزدور اپنی قطار سے باہر نکل جاتا تھا تو اس کو 100 کوڑے مارے جاتے اور 5 مرتبہ اس کے جسم پر خنجر سے وار کیے جاتے اور پھر اس کو فوراً ہی دوبارہ کام پر لگا دیا جاتا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہی طبقہ غذائیت کی کمی اور بیماریوں کا شکار بھی رہتا تھا۔ ان بیماریوں میں جوڑوں کی بیماریاں عام تھیں کیونکہ انہیں سارا سارا دن وزنی پتھر اور تعمیراتی سامان اٹھا کر اہراموں کی تعمیر کے سلسلے میں بہت اونچائی پر پہنچانے پڑتے تھے۔
-7 میانمار (برما) Myanmar
میانمار، جو برما کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں 1962ء میں فوج نے مارشل لاء لگا کر حکومت پر قبضہ کرلیا تھا۔ فوج نے اپنے ناقدین کو جیلوں میں ڈالا، پارلیمنٹ کو توڑ دیا اور ہر قسم کی جمہوریت کو ختم کرکے اس پر قدغن لگادی۔ فوج کی ظالمانہ ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے میانمار ساری دنیا سے کٹ کر ایک تنہا ملک بن کر رہ گیا ۔
جس کی وجہ سے ملک کے بیشتر عوام مفلس ہوکر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ صرف حکمران طبقہ اور ان کے خاندان ہی اپنے اقتدار کی بدولت پر تعیش زندگی گزارنے کے اہل تھے۔ ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ اسی ملک میں جب حال ہی میں جمہوریت آئی تو اس میں رہنے والے بدھ بھگشوؤں نے جو مذہبی طور پر عدم تشدد کے پیروکار سمجھے جاتے ہیں، روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کردیاموجودہ دور میں ایسی بربریت نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجوڑتے ہوئے اس کا سر شرم سے جھکا دیا۔
-8 نیو اسیرین ایمپائر (Neo-Assyrian Empire)
’’نیو اسیرین ایمپائر، لوہے کے دور میں مصر اور میسوپوٹیمیا پر مشتمل ایک عظیم سلطنت تھی۔ اس سلطنت کا زمانہ 911 قبل از مسیح سے لے کر 609 قبل از مسیح تک کا ہے۔ اس وقت یہ دنیا کی سب سے بڑی سلطنت شمار کی جاتی تھی۔ ’’اسیرین‘‘ باشندوں نے بادشاہت کے وہ ابتدائی اصول مرتب کیے جن میں سے کئی کو بعدازاں دوسری سلطنتوں نے ایک معیار کے طور پر اپنا لیا۔ تاریخ دانوں کے نزدیک یہ دنیا کی پہلی باقاعدہ سلطنت تھی۔ ’اسیرینز‘ وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے لوہے کے ہتھیار بنائے اور ایسے طریقہء جنگ ایجاد کیے جن کی بدولت وہ ناقابل تسخیر بن گئے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  ’ہر سانحے پر تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ جج فراہم نہیں کر سکتی‘

ان کی فوج، حربی صلاحیتوں کی تو انتہائی ماہر تھی ہی لیکن ساتھ ساتھ بہت ظالم بھی تھی۔ آس پاس کی ریاستوں کو فتح کرنے کے بعد وہ وہاں کے باشندوں کو غلام بناکر بیچ دیتے اور اس طرح ان کو اپنے وطن سے نکال کر دربدر کردیتے۔ وہ دشمنوں کے جسموں میں لوہے کی کیلیں ٹھونک کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے، ان کی لاشوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتے اور اپنے مفتوحہ شہروں کے باہر ان کی کھوپڑیوں کے مینار بنا کر خوشی کا اظہار کرتے۔ ان کی کئی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ زندہ انسانوں کی آنکھوں کو لوہے کی چھنی کی مدد سے حلقوں سے باہر نکالنے، بچوں کو زندہ جلانے اور شہر کے اردگرد موجود درختوں پر اپنے دشمنوں کی کھوپڑیاں لٹکانے پر بہت فخر محسوس کرتے تھے۔
-9 دی پرتگیز ایمپائر (The Portuguese Empire)
’’پرتگیز‘‘ ایمپائر ’’رینائسینس‘‘ (Renaissance) یعنی نشاۃ سانیہ کے دور کی پہلی سامراجی سلطنت تھی جو دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی اور سب سے طویل عرصے تک برقرار رہنے والی سلطنت تھی۔
یہ چھ صدیوں تک قائم رہی۔ افریقہ کے شمالی کنارے پر واقع اسپین کے ایک خود مختار شہر ’’سیوتا‘‘ (Ceuta) کی 1415ء میں تسخیر سے جنم لینے والی یہ سلطنت 1949ء میں ’’مکاؤ‘‘ کو چین کے حوالے کرنے تک اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ یہ سلطنت یورپ، افریقہ، انڈیا، جاپان اور برازیل پر محیط تھی۔ اپنے اس طویل سامراجی دور میں انہوں نے مقامی باشندوں کا استحصال کیا، افریقی گاؤںدیہاتوں پر حملے کیے اور افریقی غلاموں کی تجارت کے بہت بڑے حصہ دار بنے۔ ان کے سامراجی دور کے اختتام کے قریب  1961ء  میں ’’انگولا‘‘ کے مزدوروں نے بغاوت کی تو اس کے نتیجے میں پرتگیز نے ان کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ یہ دردناکجنگ 14 سال چلتی رہی جس کے دوران 500 مردوں، عورتوں اور بچوں کا پرتگیز افواج کے ہاتھوں اجتماعی قتل عام کا واقعہ بھی شامل ہے۔
-10 دی مقدونین ایمپائر (The Macedonian Empire)
سکندر اعظم کو تاریخ انسان میں ایک عسکری نابغے کے طور پر مانا جاتا ہے۔ وہ یونان کی ریاست مقدونیہ کا بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی فوج تشکیل دی اور فتوحات کا سلسلہ شروع کردیا۔ یونان، شام، مصر، ایران سے ہوتا ہوا وہ ہندوستان تک آپہنچا۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس کی یہ فتوحات ہولناک جنگوں اور بربریت کے مظاہروں کے بغیر مکمل نہ ہوئیں۔ ان مظالم میں ہزاروں جانوں کا ضیاع، شہروں کو نظر آتش کرنا اور بے گناہ شہریوں کا ہزاروں کی تعداد میں ہلاک کیا جانا شامل تھا۔ تمام حکمرانوں کی ہی طرح سکندر بھی ذہنی عدم تحفظ کا شکار تھا۔ اسے یہ خطرہ اور اندیشہ لاحق رہتا تھا کہ کوئی اس کے خلاف بغاوت کرکے اس کا تخت نہ الٹ دے۔ اسی ڈر اور خوف کی وجہ سے اس نے محض شکوک و شبہات کے باعث کئی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مقدونیہ کی سلطنت اس کی موت کے ساتھ ہی 323 قبل از مسیح میں ختم ہوکر تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
-11 اٹالین ایمپائر (Italian Empire)
1869ء میں بحر احمر کے ساحلی قصبے ’’اساب‘‘ (Assab) پر قابض ایک تجارتی کمپنی سے اس قصبے کا کنٹرول خرید لینے سے اٹالین سامراجی سلطنت کا آغاز ہوا جو بعدازاں دیگر افریقی مقبوضات تک پھیل گیا۔ اس زمانے میں تمام بڑی یورپی طاقتوں کا یہی طریقہء واردات تھا کہ وہ تاجروں کے بھیس میں ایشیا اور افریقہ آئے اور پھر انہیں اپنی کالونیاں بناکر یہاں کے مالک بن بیٹھے اور یہاں کی دولت، معدنیات اور انسانوں (غلاموں) پر خوب ہاتھ صاف کرکے اپنے ممالک کو امیر سے امیر تر بناتے گئے۔
اٹالین ایمپائر کو یہ ’’اعزاز‘‘ حاصل رہا کہ اس نے پہلی جنگ عظیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مقبوضات کا دائرہ، خود مشرقی یورپ کے کچھ ممالک کے علاوہ چین کے چند حصوں تک بھی بڑھالیا۔ یہ ’’کارنامہ‘‘ اس نے بدنام زمانہ ڈکٹیٹر ’’مسولینی‘‘ کی زیر قیادت 1922ء میں سرانجام دیا۔ ’مسولینی‘ نے اقتدار میں آکر اٹلی کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا۔ اس نے پارلیمنٹ تحلیل کردی اور اپنے خلاف اٹھنے والی اختلاف کی تمام آوازوں کو بزور قوت دبا دیا۔ اٹلین ایمپائر کی اس ہوس ملک گیری کے ان تمام معرکوں کے دوران ہزاروں لوگ اپنی جانوں سے گئے جو اپنے آپ اور اپنے وطنوں کو اس سامراجی قوت کے زیر تسلط آنے سے بچانا چاہتے تھے۔
-12 دی اسپینش ایمپائر (The Spanish Empire)
اسپینش ایمپائر دنیا کی چند بڑی سلطنتوں میں سے ایک تھی۔ پندروہویں صدی کے اواخر سے لے کر انیسویں صدی کے شروع تک براعظم امریکہ (جو اس زمانے میں نئی دنیا کہلاتا تھا) اور فلپائن (جسے اسپین والے ’’انڈیز‘‘ کہتے تھے) کے وسیع علاقے اسپین کے زیر تسلط تھے۔ ’’کرسٹوفر کولمبس‘‘ کے امریکہ دریافت کرنے کے فوراً بعد اسپین نے اس کو اپنی کالونی بنانے کی تگ و دو شروع کردی تھی اور کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوگیا۔ اسپین سمیت اس دور کی تمام سامراجی قوتیں دراصل ہندوستان تک پہنچنا چاہتی تھیں جو اس وقت سونے کی چڑیا کہلاتا تھا۔
’کولمبس‘ اور اس جیسے دوسرے بہت سے مہم جوؤں نے اپنی مہمات کے دوران مقامی باشندوں کے قتل عام، لوٹ مار، عصمت دری اور قتل و غارت کا ایسا طوفان بپا کیا کہ انسانیت شرما کر رہ گئی لیکن آج انسانی حقوق کے چیمپیئن یورپی ممالک میں سے کوئی بھی ان مظالم کا نام بھی نہیں لیتا بلکہ ان تمام مہم جوؤں کو اپنی اپنی اقوام میں ہیروؤں کا درجہ حاصل ہے۔
حالانکہ امریکہ، آسٹریلیا اور ایسے ہی دیگر ملکوں کے مقامی قبائل، جیسے ’’ریڈ انڈین‘‘ اور ’’ایب اوریجنز‘‘ اس موجودہ ترقیاتی اور انسانی حقوق کے علمبردار دور میں بھی انتہائی پسماندگی اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن کی زمین اور معدنی دولت پر یہ یورپی اقوام قابض ہوگئیں تھیں۔ کولمبس جیسے مہم جوؤں نے ناصرف ان علاقوں کے مقامی قبائل کی زمینوں پر قبضہ کرکے اسے کالونی بنایا بلکہ ان کے باشندوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر انسانیت کی سطح سے نیچے گرادیا۔
حالانکہ اصل میں وہ خود اپنے ان افعال کی بدولت انسانیت کے درجے سے گرچکے تھے۔ انہوں نے مقامی عورتوں تک کو نہ بخشا اور انہیں پھانسیوں پے لٹکایا اور ان مقامات میں بسنے والوں کے مذہبی راہنماؤں کو زندہ جلا دیا جاتا۔ دوسری طرف وبائی امراض نے بھی ہزاروں افراد کو لقمہء اجل بنادیا اور یہ نام نہاد ترقی یافتہ دنیا سے تعلق رکھنے والے مہم جو انہیں بچانے کے لیے کچھ نہ کرسکے۔ الٹا اس آفت پر خوش ہوئے جو ان کے ’’کام‘‘ کو مزید آسان بنارہی تھیں۔
-13 رومن ایمپائر (Roman Empire)
100 قبل از مسیح تا 400 قبل از مسیح، روم دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ ازاں بعد 500 قبل از مسیح میں نیا روم (قسطنطنیہ پل) Constantinople دنیا کا سب سے بڑا شہر بن گیا جس کی آبادی 50 تا 90 ملین افراد پر مشتمل تھی جو اس وقت کی معلوم دنیا کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد حصہ تھا۔ اپنے بالکل عروج کے دور میں رومن ایمپائر بہت وسیع اور متنوع تھی جو یورپ، شمالی افریقہ، مصر اور شام پر محیط تھی۔ رومنز نے اپنی اس عظیم سلطنت کی حدود کو پھیلانے کے لیے  ہر حربہ استعمال کیا ۔
جس میں جارحانہ حملے، لوگوں کو غلام بنانا، اپنی طاقت و قوت کے بے دریغ مظاہرے کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانا اور اپنے احکامات بزور شمشیر نافذ کروانا وغیرہ شامل ہیں۔ وہ لوگوں کو مصلوب کرنے کو صرف سزا ہی نہیں بلکہ اپنی طاقت و اختیار کے مظاہرے کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔ ان کی معیشت کا دارومدار غلاموں کی تجارت، جنسی استحصال اور ہمسایہ ممالک میں لوٹ مار پر تھا۔ رومن ایمپائر کے بہت سے حکمران جیسے نیرو، کالیگولا اور ڈومیٹین وغیرہ خبطی اور ظالم تھے جن کا محبوب مشغلہ انسانوں کی ایزا رسانی تھا۔
-14 ازٹیک ایمپائر (Aztec Empire)
جیسا کہ اوپر اسپینش ایمپائر کا ذکر آیا کہ وہ امریکہ کو کالونی بنانے کے دوران وہاں کے مقامی قبائل کے لیے وحشی ثابت ہوئی اسی طرح براعظم امریکہ کے میدانی علاقوں میں پایا جانے والا  یہ سب سے بڑا قبیلہ بھی اپنی وحشت اور بربریت میں کم نہ تھا۔ اس کا نام آزٹیک (Aztec) تھا اور وہ وہاں اپنی وسیع سلطنت کا مالک تھا۔ یہ قبیلہ دیگر مقامی قبائل کے لیے بھی کسی عفریت سے کم نہیں تھا۔ ان کے عقیدے کے مطابق ان کے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا ’’ہوئٹزیلو پوشٹلی‘‘ (Huitzilopochtli) کو تازہ تازہ نکالے گئے انسانی دل بطور غذا انتہائی مرغوب تھے۔ 1487ء کے اعدادو شمار کے مطابق ’’آزٹیک‘‘ نے محض چار دن میں 84,000 لوگوں کی قربانی صرف اسی مقصد کے لیے دی تھی۔
-15 دی برٹش ایمپائر  (The British Empire)
ہم برصغیر پاک و ہند کے لوگ تو خاص طور پر اس ایمپائر سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ ہم ان ہی کی کالونی تھے۔ جی ہاں، تاجروں کے بھیس میں ہندوستان آنے والے انگریزوں نے سولہویں صدی سے لے کر اٹھارویں صدی تک دنیا کے بیشتر حصے، بشمول ہندوستان پر بلا شرکت غیرے مطلق العنان حکومت کی۔ اپنے عروج کے دور میں یہ دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تھی اور کہا جاتا تھا کہ انگریز کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ یہ سلطنت قریباً ایک صدی تک دنیا کی سپرپاور رہی۔
1913ء تک برٹش ایمپائر کی حکومت کا جوا 412 ملین لوگوں کی گردن پر تھا جو اس وقت کی  دنیا کی آبادی کا تقریباً 23% بنتا ہے اور 1920ء تک اس سلطنت کی حدود 35,500,000 کلو میٹرز سکوائر علاقے تک پھیل چکی تھیں جو دنیا کے کل رقبے کا 24% بنتا ہے۔ یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ 1922 تک برٹش ایمپائر دنیا کے کل رقبے کے ایک چوتھائی پر قابض تھی اور دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ اس کی رعایا تھی۔ ویسے تو انگریزوں کا مطمع نظر اپنی ان کالونیز کے ذریعے معاشی فوائد کا حصول تھا مگر انھوں نے اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جو کیا، وہ یقینا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے دوسری ’’بوئر‘‘ (Boer) وار کے دوران لوگوں کو حراستی کیمپوں میں مقید رکھا، جہاں انہیں انتہائی کم خوراک دی جاتی۔
ان کیمپوں میں پھیلنے والے امراض کے علاج کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہوتا تھا اور دیگر حالات بھی بہت نامساعد تھے، جس کی وجہ سے 27,000 لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ جب انگریزوں نے بھارت کو تقسیم کیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا تو سرحدوں کی غیر منصفانہ حد بندی اور پاکستان کو بیشتر علاقوں سے محروم کرنے کی سازش کی وجہ سے دس ملین لوگوں نے ہجرت کی اور ان میں سے ایک ملین افراد اپنی جانوں سے گئے۔ علاوہ ازیں دوسری جنگ عظیم میں 12 سے 29 ملین ہندوستانی، قحط کے دوران محض اس وجہ سے فاقوں کا شکار ہوکر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے کہ انگلستان کے اس وقت کے وزیراعظم ونسٹن چرچل کے حکم پر ٹنوں گندم ہندوستان سے انگلستان روانہ کردی گئی تھی تا کہ جنگِ عظیم کی وجہ سے معاشی طور پے بے حال انگریزوں کو سستی خوراک مہیا کی جا سکے۔
The post استحصال اور سامراجیت کے بل بوتے پروان چڑھنے والی سلطنتیں appeared first on ایکسپریس اردو.