36

‘آخری مینڈک’ کی اپنی ‘جولیٹ’ کے لیے فریاد

لاطینی امریکی ملک بولیویا میں ناپید ہونے والے جانداروں کا تحفظ کرنے والے ایک بے اولاد مینڈک کے جوڑے کی تلاش میں ہیں۔انھیں تشویش ہے کہ یہ مینڈک کہیں اپنی نسل کا آخری مینڈک نہ ہو۔رومیو نامی مینڈک کی عمر دس سال ہے اور یہ ‘سیونکس’ نسل کا پانی میں رہنے والا جاندار ہے جو گذشتہ نو سال سے اپنی مادہ کو آواز دے رہا ہے۔ایک ڈیٹنگ ویب سائٹ نے اس کی مادہ کی تلاش کے لیے فنڈ فراہم کرنے کے ساتھ اس کا ایک پروفائل بنایا ہے جس میں لکھا ہے ‘اپنی جولیٹ کی تلاش میں۔’یہ بھی پڑھیے’ایسا جاندار جو مر کر زندہ ہو سکتا ہے‘’میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا’کیا دنیا سے سانپ ختم ہو جائیں گے؟سائنس دان اب اس کی مادہ کی تلاش میں ندیاں اور جھرنے کھنگال رہے ہیں تاکہ ان کی نسل کی افزائش کا پروگرام شروع کیا جا سکے۔کنزرویشن سائنس دان آرٹیورو مونوز نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ‘ہم یہ نہیں چاہتے کہ یہ امید چھوڑ دے۔’

‘ہم پر امید ہیں اور جیسا کہ دوسرے لوگ اس کے لیے مادہ تلاش کر رہے ہیں تاکہ ہم اس نسل کو محفوظ کرنے کا پروگرام شروع کر سکیں۔’لیکن اس کے لیے تحفظ کرنے والوں کو جلدبازی کا مظاہرہ کرنا ہو گا کیونکہ سیونکس تری کے مینڈک عموما 15 سال سے زیادہ نہیں جیتے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کو’چابمبا نیچرل ہسٹری میوزیم’ کے ایک ٹینک میں رہنے والے رومیو کے پاس اپنی نسل کو بچانے کے لیے اب صرف پانچ سال بچے ہیں۔14 فروری کو ویلنٹائن ڈے سے قبل رومیو کے لیے 15 ہزار ڈالر اکٹھا کرنے کے لیے ڈیٹنگ ویب سائٹ ‘میچ’ نے رومیو کی تصویر اور ضروری اطلاعات کے ساتھ ایک باقاعدہ پروفائل بنائی ہے۔پروفائل میں لکھا ہے: ‘یہ کسی دکھاوے اور کسی دوسری غرض سے نہیں ہے بلکہ میں واقعی اپنی نسل اور قسم کا آخری ہوں۔’اس میں مزید کہا گیا ہے: ‘مجھے بس اپنے جیسی کسی دوسری سیونکس کی ضرورت ہے۔ نہیں تو جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں میرا تمام وجود ختم ہے (کوئی بڑی بات بھی نہیں)۔’