122

آئی رے سردی

سردی کب شروع ہوتی ہے اس بارے میں الگ الگ اندازے ہیں لیکن اس پہ سب کا اتفاق ہے کہ جب لگنا شروع ہوجائے اسی دن سے سردی شروع ہوجاتی ہے ، تاہم روایتی طور پہ سردی کا آغاز بالعموم دسمبر کے مہینے سے شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہر برس دسمبر کی آمد پہ گرما گرم شاعری اور سرد مغالطوں کی نئی فصل کاشت ہوتی ہے اور ہر بار عاشق دسمبر کی آمد کا جس بیتابی سے انتظار کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس بار کے دسمبر میں تو وہ اپنے عشق کی کیاری میں ذاتی خون جگر سے سینچی گئی رومانی مولی کاشت کر ہی لیں گے لیکن پھر ہوتا یوں ہے کہ ان کا عشق سرد موسم کے دو تین ٹھٹھراتے غسل ہی میں کافی ٹھنڈیا جاتا ہے اور پھر وہ سارا خنک موسم کھانستے چھینکتے اور بڑا سا گرم ٹوپا پہنے رقیب کی مونگ پھلیاں ٹھونگتے اور اس سے فرمائش کرکے گرما گرم چکن سوپ پیتے گزار دیتے ہیں۔ یوں مزید عشق کرنے کے لیے وہ بھی سلامت رہتے ہیں اور رقیب کو بھی گزند نہیں پہنچتی۔ کچھ ہونہار عاشق اس موسم میں محبوب کے بھائی سے دوستی گانٹھ کے اس کی گلی میں بلکہ عین اس کے گھر کے سامنے اکثر بڑے دھڑلے سے لکڑیاں جمع کرکے الاؤ روشن کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ، یوں محبوب کا بھائی ہاتھ تاپتا ہے اور وہ دل تاپتے ہیں اور گاہے آنکھیں سینکتے ہیں۔

سردی کی کونپل چونکہ دسمبر میں سر ابھارتی ہے چنانچہ کچھ خاص قسم کے شعراء کی افزائش کا مہینہ بھی یہی ہے جنہیں ہم دسمبری شاعر کہتے ہیں کیونکہ ان کے کلام کا مرکزی نکتہ سرد دسمبر کا گرم انتظار اور اس کا والہانہ خیرمقدم ہوتا ہے اور یہ دسمبری کلام عام طور پہ تاثیر کے لحاظ سے ٹھنڈے موسم سے بھی کہیں زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے ، اتنا ٹھنڈا کہ اس کی خنکی سے اس کے تمام ردیف اور قافیے اور اوزان وغیرہ بھی ٹھٹھر جاتے ہیں- موسم سرما کی خصوصیات یوں‌ تو بیشمار ہیں لیکن آغا ان میں سے خاص الخاص یہ قرار دیتے ہیں کہ سردی درحقیقت قدرت کی طرف سے کپکپانا سکھانے کا وہ سالانہ ٹریننگ پروگرام ہے جس سے ملازمت اور ازدواجی زندگی ، دونوں ہی کو خوش اسلوبی سے بھگتانے میں بڑی اخلاقی مدد ملتی ہے اور اس سیزن سے حاصل کردہ سبق کےتحت بغلوں میں ہاتھ دبائے رکھنے اور کسی قدر خمیدہ پشت ہوکے چلنے کی عادت پڑجانے سے اور بعد از موسم سرما اس انداز کو معمول بنالینے سے تو دنیاوی درجات کی بلندی تقریباً یقینی ہوجاتی ہے

موسم سرماکی خوبیوں میں ایک نمایاں تر یہ بھی ہے کہ یہ کھانے کے لیے  بہت سی ایسی ورائٹیوں کی غذائیں اور ماکولات و مشروبات بھی حاضر کرتا ہے کہ  جن کے سامنے کسی بھی طرح کے پوشیدہ و محتاط ندیدے کا پردہ بھی چاک ہوکے رہتا ہے – تاہم موسم سرما واضح طور پہ دولتمندوں کا موسم ہے کیونکہ اہل ثروت خشک میووں سے دل بہلاتے ہیں اور نادار لوگ ان کی قیمتیں سن کے اپنا خون خشک ہوتا محسوس کرنے  میں – امراء حسب ایمان برانڈی  یا  قیمتی کافیاں پی پی کے اپنا خون گرماتے ہیں جبکہ رہاغریب ۔۔۔ تو اس کا خون کھولانے کے لیے  بجلی کا بل دیکھنا یا پھرعابدہ پروین کی کافی سننا ہی کافی رہتا ہے- اس موسم کی اور کیا توصیف بیان کروں.

[email protected]